Wednesday, October 28, 2009

28 october 2009 دل ہر قطرہ


٭
 جاہل کی تعریف....؟
جاہل کی پہلی تعریف یہ ہے کہ وہ عالم کی تعریف کا منکر ہوتا ہے....!!
٭
 مفاد پرستی .... بُت پرستی ہے۔
حق پرستی.... میزانِ حق کے رُوبرواَپنے مفاد ات کا مینڈھا قربان کرنے کا نام ہے۔
٭
 رضا میں داخل ہونے والا ، کل شناس ہو جاتا ہے.... وہ جزئیات کے تضادات سے نجات پا لیتا ہے۔
٭
 حقیقت کی نظر سے دیکھاجائے تواَسباب کی دنیا.... نظر کادھوکا ہے ....اِ سلئے اَسباب پر تکیہ کرنے والا ¾دنیا میںدھوکا کھائے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اسباب پر تکیہ کرنے والا.... خوابِ غفلت میںہوتاہے!!
٭
 معاف کرنا....اپنی نفی کا عمل ہے ....اوراِنتقام لینا.... اَزخود فاعل بننے کا عمل ہے۔ہر فعل کو فنا حاصل ہے.... کیونکہ یہ شروع ہوتا ہے، اور پھر ختم ہوجاتا ہے ....یوں معاف کرنا ¾ ملک ِ بقاکی طرف جانے کا موجب ٹھہرتاہے .... اور اِنتقام لینا ¾فنا کے دیس میں ٹھہرنے کا!
٭
نکتہ چینی سے .... نکتہ پھیکا پڑجاتا ہے ....اورکڑواہٹ نمایاں ہو جاتی ہے۔
٭
 سبب ہی کو سب کچھ جاننے والا ¾مشیت کا سبب جاننے سے قاصر رہتا ہے۔
 مشیت .... جب چاہے ¾جہاں چاہے....جس سبب سے ¾ جیسا چاہے .... نتیجہ برآمد کر لے۔
٭
وحدتِ خودی میں اَحدیت جلوہ گر ہے۔
٭
 اِنسانوںکے بارے میںخوش فہمی....اگرکسی غلط فہمی پر مبنی ہو ¾ تو بھی عین درست ہے۔
٭
 ہستی کے سراب سے گذر کر جو نیستی میں قدم رکھتا ہے.... وہی مردِ خود آگاہ ¾ شانہِ ہستی سنوارنے کی قدرت رکھتا ہے۔
٭
علم .... تعینات کا اِدراک ہے۔
٭
 کسی کے دل میں آپ کیلئے نیک تمنّا کا پیدا ہو جانا ¾ آپ کے دل کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔
٭
 شک ....بشریت کا لازمہ ہے....!
کوئی ذی بشرجیسے جیسے شک کے دائرے سے نکلتا ہے ' وہ بشریت کے دائرے سے نکلتا ہے۔
٭
نظر اَسباب پر لگی رہے ¾ تو منظر آلودہ ہو جاتا ہے۔
٭
  یقین .... آبِ کوثر ہے....حیاتِ اَبدی سے ہمکنار کرتاہے۔
 شک ....زہرِ ہلاہل ہے.... اِیمان کی جان لے لیتا ہے۔
٭
 نافع علم وہ ہوتاہے .... جو یکسوئی سے آشنا کرے۔ جہاں مرکز ہے ' وہیں یکسوئی ہے .... جہاں یکسوئی ہے' وہیں قبلہ ہے.... وہیں نافِ وجود ہے.... وہاں سے ایک غیبی راستے سے علم کی ترسیل شروع ہو جاتی ہے۔
٭
 موت .... ایک قدرتی عمل ہے۔یہ زندگی میں رونماہونے والاایک ایسا ہی قدرتی عمل ہے،جیسے کھانا ¾ پینا ¾ سونا 'جاگنا اور بچے پیدا کرنا۔
قدرت اور فطرت کی قربت رکھنے والے جان کنی کے عالم میں اَلم سے نہیں گذرتے ....بلکہ وہ جان ' جانِ آفریں کے سپرد کرتے ہیں۔
٭
 دنیا دار .... یہ سیکھنے میں زندگی تمام کر دیتا ہے کہ زندہ کیسے رہا جا سکتا ہے ....اور فقیر.... تمام عمر یہی سیکھنے میں صرف کر دیتا ہے کہ مرنا کیسے ہے!!
٭
 پوری کائنات ....وجودِ محمدی ہے....یہی وجود ¾ وحدت الوجودہے ! .... اِس وجودِ واحد کے نور سے کائنات کی تخلیق ہوئی.... اور اِسی نو رسے کائنات روشن ہے۔
٭
جو شخص دینے کا فن نہیں جانتا.... وہ سکون سے محروم رہے گا۔
٭
اِخلاص .... دانائی کا سرچشمہ ہے۔
٭
 خدائے واحد کاکلام ....وحدت میں ہے ۔ جب تک انسان خود کو دوئی کے دائرے سے نہیںنکال لیتا....کلامِ وحدت اس کے دائرہ¿ِ اِدراک میں داخل نہیں ہوتا۔
اِخلاص .... وحدت میں ہے !
مفاد .... دوئی کا شکار رہتاہے!!
٭
 اَدب.... پردہ پوش ہے ....بے علمی کو ڈھانپ لیتا ہے۔
بے ادبی.... کم علمی کا پردہ چاک کر تی ہے ....اور جہل کو عریاں کر دیتی ہے۔
٭
 بندہ .... اپنے رب کی شان ہے....!
رب کے بندے ....رب کی کسی شان کو رَدّ نہیں کرتے....وہ جانتے ہیں کہ بندے کو ردّ کرنا رب کی شان میںاِرتدادکے زمرے میں آتاہے۔
٭
اِیمان .... ایک اَرفع ولطیف خیال ہے.... اِس میں خلل ¾ بابِ کفر ہے۔
٭
 نسبت .... تعلق کو کہتے ہیں ۔
 اور تعلق.... ہمہ جہت ¾ ہمہ وقت اور ہمہ صفت متعلق ہوجانے کا نام ہے۔
٭
 زندگی میں انسان کے وجود پر دو بیش قیمت لباس موجود ہوتے ہیں.... ایک خلعتِ ظاہری ہے اور ایک خلعتِ باطنی۔
  قبر میں اُتارنے سے پہلے ظاہری لباس اُتار جاتاہے ، جبکہ باطنی لباس وہ بدستور زیبِ تن کیے رکھتا ہے۔مبارک ہیںوہ ¾جن کا باطنی لباس اُن کے ظاہری لباس سے بڑھ کر قیمتی ہے۔
٭
 تقویٰ کا ایک مفہوم اِخلاص بھی ہے۔
اِخلاص ....ایک کے ساتھ ایک ہو جانے کانام ہے ۔
٭
اِخلاقیات کے باب میں کسی کا ناجائز شکوہ سن لینا ....عین جائز ہے ۔
لوگوں کا ناجائز شکوہ بھی دُور کر دینا ....قانون کے نہیں ....اِخلاق کے زمرے میں آتا ہے۔خوش اخلاقی .... درحقیقت جواں مردی کا دوسرانام ہے۔
٭
سجدہ¿ ِ کامل .... تمنّا کی سرحد کے کامل اختتام پر ہوتا ہے۔
٭
جب آپ کسی کے وقت میں داخل ہو جاتے ہیں توآپ کا وقت تھم جاتا ہے۔
٭
 خلق کے دو پہلو ہیں.... مثبت 'منفی.... مجاز'حقیقت.... وجود'روح ....آدم ' حوّا....ہر رُخ اپنے متعلق رُخ سے محوِ کلام رہتا ہے.... اس لئے دائرہ¿ خلق سے نکل نہیں پاتا۔ مثبت کو ثبات پانے کیلئے اپنے منفی پہلو سے نجات پانا لازم ہوتاہے ۔
٭
  دھوکے کا شکاروہی ہوتا ہے ....جو لالچ کا شکار ہوچکا ہو........ اَسباب وعلل کی دنیامیں ....رنگ و بو کے تانے بانے میں....!!
٭
اِنسان کا علم جب تک اِنسان تک نہ پہنچے .... خلاﺅںمیں بھٹکتا رہتا ہے۔
٭
اَدب .... علم کا قائم مقام ہو جاتا ہے....جبکہ علم اَدب کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

No comments:

Post a Comment

Dear Visitor you can comment here